اسلام آبا د میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر، معاملہ پیچیدہ

اسلام آبا د میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر، معاملہ پیچیدہ

پاکستان کی 22 کڑور کی آبادی میںہندو تناسب 1.85% ہے، جن کہ لیئے ہندو اوقاف کے مطابق 1300 مندر پاکستان میں ہیں ، جن میں سے صرف تیس مندر عبادت گاہ کہ طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ۔

پاکستان کہ دارلخلافہ اسلام آباد میں تقریبا تین ہزار ہندو آباد ہیں ، جن کی عبادت اور اپنی مذہبی رسومات کہ لیئے کوئی مندر موجود نہیں ہے ۔

لہذا ان تین ہزار ہندو آبادی کہ لیئے میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں سیکٹر H-9 میں ڈیرھ ایکڑ زمین الاٹ کی تھی ، جہاں ہندو آبادی اپنا مندر بنا کر اپنی مذہبی رسومات ، شادی بیاہ اور دوسری تمام تقریبات منعقد کر سکتی تھیں، ہندو ں نے اپنے اس مندر کا نام “سری کرشن چند ” رکھا ہے ۔

جون 2020 کہ آخر میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے مندر کی تعمیر کے لیئے قریبا دس کڑور روپیہ کی گرا نٹ کااعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد پورے ملک میں مختلف مکاتب فکر نے اس کہ حق یا مخالفت میں بات کرنا شروع کردی ہے، جس کی وجہ سے یہ گرانٹ متنازع ہو گئ ہے ۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہی نے اس گرانٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تاریخ میں کہیں بھی یہ بات نہیں ملتی کہ اسلامی حکومت مسلمانوں کہ فنڈ سے کسی بھی دوسری مذہب کی عبادت گاہ تعمیر کرے ، اور یہ اسلام کی روح کہ خلاف ہے۔ #

جامع اشرافیہ جو کہ پاکستان میں اسلامی تعلیمات کا ایک بہت بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے اور جہاں ہر نہ صرف اسلامی تعلیمات دی جاتی ہے بلکہ اسلام کہ متعلق تحقیق بھی کی جاتی ہے ، اس ادارے نے نہ صرف وزیر اعظم عمران خان کہ اس اقدام کو غیر اسلامی قرار دیا بلکہ اس کہ خلاف فتوی بھی جاری کیا ہے ۔

اسلام آبا د میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر، معاملہ پیچیدہ

جناب مفتی تقی عثمانی جو کہ اسلامی اسکالر ہیں اور امت مسلمہ میں اپنی تحقیق کی وجہ سے کافی قدرومنزلت رکھتے ہیں ، اور اسلامی قانون پر بہت دسترس رکھتے ہیں اُنھوں نے فرمایا ” بات یہ نہیں کہ اسلام آباد میں مندر بن رہا ہے ۔ بات یہ ہے کہ اس مندر کی تعمیر کہ لیئے فنڈ کون دے رہا ہے ۔”

سی ڈی اے نے 4 جولائی 2020 کو یہ کہتے ہوئے اس مندر کی چار دیواری کی تعمیر کو روک دیا تھا کہ مندر کا نقشہ رولز کے مطابق نہیں بنایا گیا ہے ، اسی دوران ایک مذہبی تنظیم کے کارکنان نے جو تھوڑی بہت چار دیواری بنی ہوئی تھی ، اس مسمار کر دیا ۔ اسی دوران ایک مذہبی تنظیم نے شری کرشن چند مندر کی تعمیر روکوانے کے لیئےاسلام آبا د ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

ان کی رٹ پیٹشن اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینے اور ہدایت کرتے ہوئے خارج کردی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل 1962 میں بنائی گئ تھی جو حکومت وقت کی مذہبی رہنمائی کرتی ہے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیڑمین جناب قبلہ ایاز صاحب کہ پاس جب یہ معاملہ پہنچا تو اُنھوں نے معاملے کو نسل کہ ممبران کو بھیج دیا لیکن تاحال اسلامی نظریاتی کونسل کا اس پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

وزرات مذہبی امور بھی اس مندر کے فنڈ کو جاری کرنے یا نہ کرنے کے لیئے اسلامی نظریاتی کونسل کہ فیصلے کا انتظار کر رہی ہے ، اسلامی نظریاتی کونسل کہ سامنے یہ سوال ہے کہ آیا مسلمانوں کہ ٹیکس کہ پیسے دوسری مذہبی عبادت گاہوں کہ بنانے پر خرچ کیئے جا سکتے ہیں یا نہیں ۔

قومی اسمبلی کہ ہندو ممبر لعل چند کہ مطابق پاکستان کا قانون ہمیں برابری کہ حقوق دیتا ہے اس لیئے یہ ہندو مندر لازمی بنے گا ، مسئلہ صرف یہ ہے کہ آیا یہ مندر عوام کہ ٹیکس کہ پیسے سے بن سکتا ہے یا نہیں ، اس کے لیے ہمیں اسلامی نظریاتی کونسل کہ فیصلے کا انتظار ہے ، اگر یہ فیصلہ ہمارے خلاف آتا ہے تو ہم یہ مندر چندہ لے کر تعمیر کریں گے۔

بہرحال اس مندر کا فیصلہ تب ہی ہو سکے گا جب اسلامی نظریاتی کونسل کہ ممبران اپنی تحقیق مکمل کریں گے اور اپنی سفارشات وزارت مذہبی امور کو ارسال کرے گی۔

اس مندر کی تعمیر کہ حوالے سے پاکستانی عوام میں کافی تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ مذہبی تنظیموں کا بیانیہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر ہونی ہی نہیں چاہیے ، اور اسی بیانیہ کی تر ویج کے لیئے کی گئ ہے اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے۔

جبکہ ملک میں ایسا نظریہ رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں جو اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں موجود ہندو کمیونٹی کے لیئے مندر کی تعمیر ہونی چاہیے لیکن عوام کہ ٹیکس کا پیسہ استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔ ہندو کمیونٹی اپنے وسائل کو استعمال کرے اور مندر کی تعمیر کو یقنی بنائے۔

سوشل میڈ یا پر ان نظریا ت کا اظہار دکھا گیا ہے ، اور ہند و کمیونٹی کی تذلیل بھی کی گئہے جبکہ ہمارے ملک میں تمام مذاہب کہ مانے والوں کو اپنی مذہبی رسوامات ادا کرنے کی مکمل آذادی ہے اور قیام پاکستان کہ وقت یہی قائد اعظم محمد علی جناح کہ ارشادات تھے۔

اس تمام تر معاملے میں اپوزیشن بھی اسی بات پر اختلاف کر رہی ہے کہ اسلامی حکومت ہندو مندر کی تعمیر کے لئے گرانٹ الاٹ نہیں کر سکتی ہے۔ پاکستان کا آئین انسانوں کو یکسا حقوق فراہم کرتا ہے ، چاہے اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ۔

اب اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ، اس کا جواب تو اسلامی نظریاتی کونسل کافیصلہ ہی دے سکے گا۔

One thought on “اسلام آبا د میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر، معاملہ پیچیدہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You have successfully subscribed to the newsletter

There was an error while trying to send your request. Please try again.

We will notified you when new / latest job is published on our website? Enter your email address to be the first to know.