پاکستان میں سی ایس ایس امتحانات

پاکستان میں سی ایس ایس امتحانات

پاکستان اُن چند ممالک میں سے ہے جس کی ساٹھ فیصد آبادی کا تناسب نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ دنیا بھی میں نوجوانوں کی کردار سازی اور کیریئر سے متعلق مشاورت کے لیے خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

انگریزی میں پاکستان میں سی ایس ایس امتحانات کے بارے میں معلومات یہاں کلک کریں
خواہشمندوں کے لیے بڑی خبر۔

پاکستان میں نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے کچھ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اکثر وبیشتر طالب علموں کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ اُنہوں نے انٹرمیڈیٹ کے بعد کس فیلڈ میں جانا ہے ۔ پاکستان کا شماد ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے ۔ اور اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان میں بہت سے افراد کو اُن کہ مستقبل کے حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی ہے۔

پاکستان میں ایک بڑی تعداد اُن طالب علموں کی ہے جو اپنی گریجویشن کہ بعد سی ایس ایس کے امتحانات دیتے ہیں ۔ بہت سے لوگ یہی کوشش کرتے ہیں کہ سی ایس ایس کہ امتحان میں کامیاب ہوکر ملک کی خدمت کر سکیں ۔ لیکن سی ایس ایس میں کامیابی کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔ یہاں سے پاکستان کہ تعلیمی نظام کا باخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

سی ایس ایس، سنٹرل سپیرئیر سروسز کا مخفف ہے۔ جس میں حکومتِ پاکستان ایف پی ایس سی ادارے کی ذیرِنگرانی گریڈ ۱۷ میں افسر بھرتی کرتی ہے۔سی ایس ایس کے امتحانات سال میں ایک بار منعقد کیے جاتے ہیں۔جس میں ہنرمند اور تخلیقی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو منظرِعام پر آنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔سی ایس ایس کے امیدواروں کو چار اقسام کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے اور پھر انکی صلاحیت کے مطابق انھیں مختلف محکموں میں بھرتی کیاجاتا ہے۔

سی ایس ایس امتحان میں حصہ لینے کے لیے جنس کی کوئی پابندی نہیں، ہر فرد خواہ وہ عورت ہو یا مرد اس امتحان مقابلے میں حصہ لے سکتا ہے بشرطیکہ وہ پاکستان کی شہریت رکھتا ہو۔سی ایس ایس امتحانات کے لیے عمر کی شرح کا تعین ۲۱ سے ۳۰ سال کے درمیان ہے۔

پاکستان میں اسپیشل سی ایس ایس کے امتحان کی استدعا کی گئ تھی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے یہ ہدایت کی تھی کہ اگر ملکی حالت کورونا کی وبا کہ پیشہ نظر بہتر ہونگے تو نومبر یا دسمبر میں سی ایس ایس کے امتحان لیے جائیں ۔ یہ امتحانات صرف بلوچستان اور خیبر پختنونخوا کہ طالب علم دیے سکیں گے ۔ اسپیشل سی ایس ایس کے امتحان میں حصہ لینے کے لیے ۲۱ سے زیادہ اور ۳۰ سے کم عمر ہونا ضروری ہے۔ امتحان میں حصہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار سیکنڈڈیویژن یا پھر سی گریڈ کے ساتھ گریجویٹ ہو۔

مقابلے کے امتحانات کے لیے ہر سال نومبر سے دسمبر کے عرصے کے دوران آن لائن رجسٹر کروایا جاتا ہے اور امتحانات کا اجراء فروری کے ماہ میں ہوتا ہے۔اس سال سی ایس ایس ۲۰۲۱ کے امتحانات میں آن لائن رجسٹر کروانے کی آخری تاریخ ۳۱ اکتوبر ۲۰۲۰ ہے۔

طلبہ اور طالبات سی ایس ایس امتحانات کی تیاری کے لیے سی ایس ایس کی آفیشل ویب سائٹ سے مواد حاص کر سکتے ہیں۔تیاری کے لیے ۶ سے ۸ ماہ کا عرصہ کافی ہوتا ہے۔امتحان میں حصہ لینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ موجودہ ملکی اور غیر ملکی صورتحال سے آگاہ رہے اور ملک کو در پش مسائل سے ہمکنار ہو۔

اگر امیدوار روزانہ ۵ سے ۶ گھنٹے بھی مطالعہ کرتا رہے تو محدود مدت میں خود کو امتحانات میں حصہ لینے کے قابل بنا سکتا ہے۔ مختلف ویب سائٹس پر تمام سی ایس ایس کے مضامین کا سلیبس موجود ہے جہاں سے امیدوار باآسانی مواد اکٹھا کر کے نوٹس بنا سکتے ہیں اورامتحانات میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ بنا گھبرائے منزل کاتعین کیا جائے۔

One thought on “پاکستان میں سی ایس ایس امتحانات”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *